ہوناور 3/ فروری (ایس او نیوز) ہوناور کے کاسرکوڈ میں کمرشیل پورٹ کی تعمیر پر مخالفت میں مزید تیزی آگئی ہے کیونکہ اب اس معاملے میں ماہی گیروں کی قومی تنظیم نے مداخلت کرتے ہوئے تعمیری کام نہ روکنے پر بڑے پیمانے پر سخت ترین احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
قومی ماہی گیر تنظیم کے ریاستی صدر راما موگیر اور دیگر عہدیداران نے کاسرکوڈ پہنچ کر وہاں کے ماہی گیروں سے حالات کی جانکاری لینے کے بعد اعلان کیا کہ چونکہ مقامی لوگ اس منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں اس لئے تعمیری کام فوری طور پر روک دیا جائے اور اس منصوبے کو منسوخ کردیا جائے۔ ورنہ ریاستی ماہی گیروں کے ساتھ مل کر کاسرکوڈ میں زبردست احتجاج شروع کیا جائے گا۔
راما موگیر نے کہا کہ حیدرآباد کی کمپنی ہوناور پورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے جو تعمیری کام کرنے جارہی ہے اس سے یہاں کے مقامی لوگوں اور ماہی گیروں کا بڑا نقصان ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے جب ایکانگلیو جامیر ضلع ڈپٹی کمشنر تھے تو انہوں نے مقامی لوگوں کی مخالفت کے باوجود اس منصوبے کو منظوری دی تھی۔ جب مقامی ماہی گیروں کی طرف سے مخالفت ہورہی ہے تو پھر اس منصوبے پر عمل پیرائی ایک غیر قانونی اقدام ہے۔ ہم لوگ اپوزیشن لیڈر سدارامیا کے توسط سے اس مسئلہ کو اسمبلی میں اٹھائیں گے۔
اس موقع پر ماہی گیر تنظیم کے ریاستی سیکریٹری منجو ناتھ سونیگار، ضلع سیکریٹری چندر کانت کوچریکر، ماہی گیر لیڈر ویوین فرنانڈیز وغیرہ نے اس مسئلہ پراپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً 23ہزار افراد کی زندگی متاثر ہوگی۔ اس علاقے میں بسنے والوں کے لئے شراوتی ندی سے درپیش سنگین مسائل کا حل نکالنے کے بجائے حکومت اپنے مفاد کے لئے کمرشیل پورٹ تعمیر کرنے پر تل گئی ہے۔ مخالفت کرنے والوں پر جھوٹے مقدمات دائر کرکے ستایا جارہا ہے۔ لیکن اب ماہی گیروں کی تنظیم اس منصوبے پر ہر حال میں روک لگانے کا مطالبہ کرتی ہے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
دوسری طرف ماہی گیر فیڈریشن کے ضلع صدر راجو تانڈیل نے کاسرکوڈ میں مجوزہ بندرگاہ کے لئے تعمیراتی سائٹ پر پہنچ کر تعمیرات سے متعلق باضابطہ دستاویزات دکھانے کی مانگ کی مگرکوئی معقول جواب نہ ملنے پر تحصیلدار دفتر جا کر افسران سے بات چیت کی۔ وہاں پر طے پایا کہ بدھ کے دن صبح میں مقامی افراد کا ایک عام اجلاس طلب کرکے تعمیراتی منصوبے سے متعلق تمام کاغذات دکھائے جائیں گے۔ اس کے بعد کام آگے بڑھایا جائے گا۔